ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / انتخابات کیلئے سیاست دانوں اور صحافیوں کی جاسوسی کرائی گئی؟:کانگریس

انتخابات کیلئے سیاست دانوں اور صحافیوں کی جاسوسی کرائی گئی؟:کانگریس

Mon, 04 Nov 2019 11:15:40    S.O. News Service

نئی دہلی،4؍نومبر(ایس او نیوز؍یواین آئی) کانگریس نے مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے اس سال اپریل -مئی میں لوک سبھا انتخابات کے وقت اسرائیلی سافٹ ویئر پگسہیس کے ذریعہ رہنماؤں، صحافیوں اور سماجی کارکنوں کی جاسوسی کرائے جانے کی پوری جانکاری تھی اور وہ اس معاملہ پر پراسرار اور سازشی خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے -کانگریس کے شعبہ نشرواشاعت کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے یہاں پریس کانفرنس میں ان الزامات کی حمایت میں کچھ دستاویزات پیش کرتے ہوئے کہاکہ اب کی بار جاسوس سرکار- انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ سے لے کر دیگر اداروں کی بھی جاسوسی ہورہی ہے-انہوں نے کہا کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کا موبائل بھی ہیک ہواتھا-انہوں نے کہا کہ فیس بک اور واٹس ایپ کے مالک نے 17 مئی کو اپنی رپورٹ میں مرکزی حکومت کے انفارمیشن ٹیکنالوجی محکمہ کو اس بارے میں اطلاع دے دی تھی- انہوں نے کہا کہ جاسوسی کے لئے اسرائیل میں تیار جس‘پگسیس سافٹ ویئر’کا استعمال کیا گیا، اسے بنانے والی کمپنی صرف اور صرف حکومت اور اس کی سیکورٹی ایجنسیوں کو ہی فروخت کرتی ہے -مسٹر سرجے والا نے رپورٹ کی بنیاد پر یہ دعویٰ بھی کیا کہ پگسیس کی جاسوسی نگاہ سے نیشنل انفارمیٹکس سینٹر (این آئی سی) اور‘ودیش سنچار نگم کارپوریشن لمٹیڈ’کوبھی متاثر کر رہے ہیں - اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی جاسوسی کے دائرے سے اچھوتا نہیں تھا- انہوں نے کہا کہ حکومت یہ سب جاننے کے باوجود ایک پراسرار اور سازشی خاموشی اختیار کئے رہی - امریکہ میں معاملہ30اکتوبر کو سامنے آنے کے بعد مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر روی شنکر پرساد نے ٹوئٹر پر اگلے دن کہا کہ انہوں نے کمپنی سے معلومات مانگی ہیں -انہوں نے کہا کہ آج تک حکومت نے اس بارے میں کچھ بھی واضح جواب نہیں دیا ہے اور صحافیوں اور ایڈیٹرز پر دباؤ ڈال کر‘ذرائع کے حوالے ’کی جھوٹی باتیں شائع کرا رہی ہے - انہوں نے حکومت سے پوچھا کہ وہ بتائے کہ کیا انتخابات کے لئے اس نے سیاستدانوں اور صحافیوں کی جاسوسی کروائی؟ کیا یہ ٹیلیگراف ایکٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی خلاف ورزی نہیں ہے؟ مرکزی حکومت نے کس کے کہنے پر پگسیس کی خریداری کی اور اس کے غیر قانونی استعمال کی اجازت دی- کیا یہ کام وزیر اعظم، قومی سلامتی کے مشیر یا وزیر داخلہ نے کیا تھا- مرکزی حکومت نے اس پر پراسرار خاموشی کیوں اختیار کئے رکھی-کیا حکومت اس کے ذمہ دار وزراء یا حکام پر کوئی کارروائی کرے گی-انہوں نے کہا کہ جس طرح سے اس معاملہ میں بی جے پی کے ملوث ہونے کی بات اجاگر ہوئی ہے اس کے بعد پارٹی کے نام کا مطلب اب ”بھارتیہ جاسوس پارٹی“ہو گیا ہے -


Share: